Tuesday, 21 January 2014

پاکستانی جنگلوں کا مستقبل خطرے میں؟



www.epo.org.pk
۔
اسلم جان یوسفزئی.
ایک جانب تو پاکستان اپنے جنگلات کی بےدریغ کٹائی کو روکنے کے لیے عالمی فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب پاکستان کے شمال مغربی حصے کے مقامی اپنے جنگلات کی حفاظت کی پاداش میں غیرقانونی طور پر جنگلات کی کٹائی کرنے والوں کی جانب سے سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔
پچھلے دو سال سے فضل الرحمٰن اور دیگر گاؤں والے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں جنگلات کی کٹائی کرنے والی طاقتور مافیا کے خلاف عدالتی جنگ لڑرہے ہیں۔ وہ اپنے جنگلات کو تباہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔
گاؤں کےبہت سے لوگوں پر، جو پاکستان کےاس آخری بچے کچھے دیودار کے جنگل کے کنارے رہتے ہیں، انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے اور ستم بالائے ستم الزام یہ ہے کہ انہوں نے اپنا وہ جنگل بچانے کی کوشش کی تھی جو بےرحم ٹمبر مافیا نے ان سے چھین لیا تھا، جو کہ مبینہ طور پر محکمہء جنگلات کی ملی بھگت سے کام کررہی ہے۔
وہ مقامی لوگ جنہوں نے لکڑی لے جانے والے ٹرکوں کا راستہ روکا اور لکڑی کی چوری روکنے کی کوشش کی، انہیں"رکاوٹ" بننے کے الزام میں متعدد بار عدالت میں طلب کیا گیا۔ گاؤں والے اس سارے طرزعمل کو کرپشن اور لوٹ مار کا نام دیتے اور واضح الفاظ میں الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس گھناﺅنے کھیل کاحصہ ہیں۔
خیبرپختونخواہ کے خوبصورت مناظر کے حامل ایک اونچے پہاڑی گاؤں کے رحمٰن کا کہنا ہے کہ "ہم میں سےسیکڑوں لوگوں کو مہینے میں چار بار سوات کی عدالت میں طلب کیا جاتا، جہاں ہم پر انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کےتحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ وہاں پہنچنے میں ہمیں بارہ گھنٹے لگتے ہیں، اور وہ چار گھنٹوں کی پیدل مسافت اس کے علاوہ ہے جو ہمیں اپنے گاؤں سے پکی سڑک تک پہنچنےمیں لگتی ہے۔"
سالوں سےجاری جنگلات کی کٹائی نےشمال مغربی پاکستان میں جنگلات کے قطعوں کو برباد کردیا ہے۔ ملک میں جنگلات کی کٹائی کی شرح ایشیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، جو ملک کو کسی بھی وقت تباہ کن سیلاب کا شکار بناسکتی ہے۔
"ہمیں جنگلات کی حفاظت اور ان کی کٹائی روکنے کے خلاف آواز بلند کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔" رحمٰن نے تھرڈ پول کوبتایا۔ "جیسے ہی ایک کیس اختتام کو پہنچتا ہے،دوسرا دائر کردیا جاتا ہے۔"
جنگلات کو بچانے کا عزم انہیں بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔ رحمٰن نے مزید بتایا؛ "ہر چکر پر سواری، کھانے اور وہاں رات   گزارنے کے اخراجات پر ہمارے دولاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں جو تقریبا1۔117 ڈالرتقریباً ہیں۔"
مقامی کوششوں کو بین الاقوامی سمت مل گئی! سابق انسپکٹرجنرل جنگلات سید محمود ناصرکا کہنا ہے جنگلات کی کٹائی کے حوالے سے غیرقانونی اقدام کی روک تھام اور تیزی سے کم ہوتے حیاتیاتی تنوع کی جانب سیاست دانوں کی توجہ مبذول کرانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ انہیں یہ دکھایا جائے کہ تخفیف (بدلتے موسموں کی روک تھام اور مضر صحت گیسوں کے اخراج میں کمی) کی اس حکمت عملی کے ساتھ "ڈالرز" جڑے ہوئے ہیں۔ سید محمود ناصر جانتے ہیں کہ نقصان دہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور جنگلات سے وابستہ مقامی افراد کی فلاح و بہبود کے بغیر کم نہیں کیا جاسکتا۔
جہاں ایان گاﺅں کے افراد اپنے جنگلات کے تحفظ کی جنگ مقامی سطح پر لڑ رہے ہیں، وہیں ماہرین ماحولیات اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کی معلومات اور سائنسی نقطہ نظر ایک ہی ہے کہ جنگلات کاربن کو جذب کرتے ہیں اور زیادہ جنگلات نسل انسانی کی فلاح کے لیے ضروری ہیں۔
ماہرین ماحولیات جنگلات کی کٹائی اور مضر صحت گیسوں کےاخراج میں کمی کی بین الاقوامی حکمت عملی "ریڈ   اورریڈ کی سفارش کر رہے ہیں۔ یہ ایک بین الاقوامی اقدام یا حکمت عملی ہے جو مختلف ممالک کو جنگلات کی کٹائی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔
"ریڈ" حکمت عملی کے تحت قوانین کو مضبوط بناکر، اور جنگلات سے وابستہ مقامی افراد، خاص طور پر خواتین، کی شرکت کو مزید بامعنی بناکر جنگلات کی حفاظت اور انتظامات کے حوالے سے اقدامات میں مدد دی جائے گی،
بشکریہ ڈان اردو


(REDD and REDD+)https://epo.org.pk